کینیڈا نے اپنے گھر میں ورلڈ کپ کے یادگار آغاز میں بوسنیا اینڈ ہرزیگووینا کے خلاف 1-1 سے میچ برابر کیا، جب متبادل کھلاڑی سائل لارن نے 78ویں منٹ میں گول کیا۔ مہمان ٹیم نے نظم و ضبط اور تجربے کے ساتھ آغاز میں برتری حاصل کی، مگر میزبانوں نے دباؤ، استقامت اور فیصلہ کن لمحات سے میچ میں واپسی کی۔
بوسنیا نے لُکچ کے گول سے سبقت لی اور کینیڈا کے کراسز و تھرو بالز کو دفاعی چوکسی کے ساتھ بے اثر کیا۔ وقفے تک کینیڈا کے پاس گیند تو رہی مگر آخری تہائی میں واضح مواقع کم بنے۔
دوسرے ہاف میں منظر پلٹا۔ رِچی لاریا کا شاندار موقع گول لائن پار کرتا دکھائی دیا، لیکن سیاد کولاسیناچ نے برق رفتاری سے واپس آکر کراس بار کی مدد سے گیند کو لائن پر سے کلیئر کر دیا۔ چند لمحوں بعد ارمَدین دیمیرَوِچ کے پاس 0-2 کرنے کا سنہری موقع تھا، مگر میکسِم کریپو—جو 2022 ورلڈ کپ انجری کے باعث نہیں کھیل سکے تھے—نے ون آن ون شان دار سیو کر کے میزبان ٹیم کو بچا لیا۔
یہیں سے رُخ بدل گیا۔ بینچ سے تازہ توانائی کے ساتھ کینیڈا نے رفتار پکڑی۔ ساؤتھمپٹن کے فارورڈ لارن نے باکس کے بیچوں بیچ جگہ بنا کر دائیں پاؤں سے دھماکیدار ہٹ لگائی اور اسکور 1-1 کر دیا۔ یہ نہ صرف اسٹیڈیم میں جوش لے آیا بلکہ کینیڈا کے لیے اپنے ہی ملک میں کھیلے گئے ورلڈ کپ کا پہلا گول بھی ثابت ہوا—ایک تاریخی لمحہ۔
اختتامی لمحات میں بوسنیا جوابی حملوں پر خطرناک رہا، مگر کینیڈا کی دفاعی لائن نے نظم و ضبط اور بھرپور کور کے ساتھ قیمتی ایک پوائنٹ محفوظ کیا۔ میزبانوں کے لیے یہ ڈرا صرف بچاؤ نہیں بلکہ حوصلے اور ترقی کی علامت ہے، جبکہ بوسنیا اپنی تنظیم اور مدتوں تک کنٹرول سے اعتماد حاصل کر سکتا ہے۔
اگر افتتاحی میچ معیار ہے تو دونوں ٹیمیں ورلڈ کپ کی راتوں میں کسی کے لیے بھی چیلنج ثابت ہو سکتی ہیں۔