تمام
ورلڈ کپ
ساکر
پیشین گوئیاں
میچ رپورٹس
FARE نے ‘OK’ اشارے پر VAR اہلکار ہٹانے کا مطالبہ کیا
انسدادِ امتیاز نیٹ ورک FARE نے فیفا سے مطالبہ کیا ہے کہ ورلڈ کپ میں خدمات انجام دینے والے ایک ویڈیو اسسٹنٹ ریفری (VAR) نگران کو ہٹا دیا جائے، کیونکہ براہِ راست نشریات میں ان کا ایک ہاتھ کا اشارہ ریکارڈ ہوا جو کارکنان کے مطابق الٹے ‘OK’ نشان سے ملتا جلتا ہے اور بعض انتہائی دائیں بازو حلقوں میں اسے “وائٹ پاور” کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ FARE نے سخت لہجے میں کہا کہ کیمرہ آن ہونے کے لمحے ایسا اشارہ دانستہ پیغام دہی کے سوا کچھ نہیں سمجھا جا سکتا اور عالمی ناظرین کو میچ سے قبل کسی نو نازی علامت کا سامنا نہیں ہونا چاہیے۔
FARE کے بیان میں کہا گیا: “ہمارے ماہرین کی رائے ہے کہ یہ اشارہ واضح طور پر الٹے ‘OK’ نشان سے مشابہ ہے جو عالمی انتہائی دائیں بازو حلقوں میں ‘وائٹ پاور’ کے طور پر استعمال ہوتا ہے… عالمی ناظرین کو میچ دیکھنے سے پہلے ایسے افراد کے نازی علامات کے استعمال سے دوچار نہیں ہونا چاہیے۔” تنظیم نے یہ بھی نشاندہی کی کہ اگلے دو میچز میں ٹی وی ڈائریکٹرز نے بظاہر VAR پینل کی اسکرین پر تعارف کرانا بند کر دیا، جس سے تنازع پر نشریاتی ردِعمل کا تاثر ملا۔
ادھر اینٹی ڈیفیمیشن لیگ (ADL) نے نیت کے تعین میں احتیاط برتنے کی تلقین کی۔ ADL کے مطابق ‘OK’ اشارے کی روایتی، غیر متنازعہ معنویت بھی ہے اور یہ کئی غیر نسل پرستانہ سیاق و سباق میں استعمال ہوتا ہے، اس لیے کسی کے اشارے کے پس منظر میں موجود ارادے پر پہنچنے سے پہلے سیاق و شناسائی اور شواہد کو فوقیت دی جانی چاہیے۔
یہ تنازع فٹبال منتظمین اور براڈکاسٹرز کے لیے ایک بڑے چیلنج کی نشاندہی کرتا ہے—نفرت انگیز علامات کے خلاف چوکسی اور کثیر ثقافتی ماحول میں غلط فہمی کے خدشات کے درمیان توازن کیسے قائم کیا جائے۔ ساتھ ہی یہ سوال بھی ابھرتا ہے کہ نشریات سے پہلے کے پروٹوکول اور براہِ راست پروڈکشن میں ریفری اور ٹیکنیکل ٹیموں (جیسے VAR) کو کیسے پیش کیا جائے۔
دباؤ بڑھنے کے ساتھ توجہ اب فیفا کے اگلے اقدامات اور اس کے انسدادِ امتیاز فریم ورک کے تحت ممکنہ انضباطی جائزے پر مرکوز ہے۔ فی الحال یہ واقعہ ذمہ داری، تاثر اور طرزِ عمل کے معیارات پر بحث کو مہمیز دے رہا ہے۔