چیکیا چھ میچوں کی جیت اور سات مسلسل میچوں میں گول کے سلسلے کے ساتھ کوریا ری پبلک کا سامنا کرے گی۔ اعدادوشمار ایک ہی نکتے پر زور دیتے ہیں: پہلا گول کھیل کی سمت طے کرتا ہے۔ چیکیا 60% میچوں میں ہاف ٹائم جیتتی ہے، جب کہ کوریا 38%، لیکن سیئول میں کوریا جب 1-0 کی برتری لیتا ہے تو 100% میچ اپنے نام کرتا ہے۔ الٹ منظرنامے میں انہی سیاق و سباق میں دونوں ٹیمیں 0-1 سے پیچھے ہو کر جیت نہیں سکیں۔ اسی لیے ابتدائی 15 منٹ، منتقلی کی رفتار اور سیٹ پیس کی نفاست فیصلہ کن ہو سکتی ہے۔ فارم کے لحاظ سے چیکیا کی آخری پانچ میچوں کی کارکردگی بہتر رہی ہے، اور اوے پر 1.5 گول فی میچ اس کی مستحکم فائنل پروڈکٹ دکھاتی ہے۔ دوسری طرف کوریا گھر میں تال، چوڑائی اور کنٹرول سے کھیل کا پیس سنبھالتا ہے، جہاں اس کی اوسط 1.56 گول فی میچ ہے۔ گزشتہ آمنے سامنے میں کوریا ایک گول سے جیتا تھا، جو اس میچ کے بھی کم مارجن پر طے ہونے کی طرف اشارہ ہے۔ خلاصہ: فارم چیکیا کے حق میں، مگر ہوم ایڈوانٹیج اور ہیڈ ٹو ہیڈ کوریا کو وزن دیتے ہیں۔ کم اسکور اور پہلے گول کی فیصلہ کن اہمیت—ڈ্র یا ایک گول کے فرق سے نتیجہ، جب تک کوریا پہلے وار نہ کرے، معمولی برتری چیکیا کی لگتی ہے۔