تمام

میچ رپورٹس

ساکر

پیشین گوئیاں

Tusport - خبریں - ریئل میڈرڈ بمقابلہ ایتھلیٹک: برنابیو کی حصار بندی اور آخری لمحات

ریئل میڈرڈ بمقابلہ ایتھلیٹک: برنابیو کی حصار بندی اور آخری لمحات

ریئل میڈرڈ بمقابلہ ایتھلیٹک: برنابیو کی حصار بندی اور آخری لمحات
ریئل میڈرڈ اور ایتھلیٹک بلباؤ کے میچ کی سب سے بڑی کہانی برنابیو کی ناقابلِ تسخیر رکاوٹ ہے۔ بلباؤ کی میڈرڈ میں آخری لیگ جیت 2005 میں ہوئی تھی؛ تب سے 21 دوروں میں کامیابی نہیں ملی۔ گذشتہ 33 گھریلو میچوں میں میڈرڈ نے 26 جیتے، 4 برابر اور 3 ہارے، گول فرق 24-83 رہا۔ گھر میں سب سے عام نتیجہ 3-1 ہے (پانچ بار)، جو ظاہر کرتا ہے کہ میڈرڈ عام طور پر نظم و نسق سنبھالتا ہے مگر بلباؤ کو جوابی وار کا موقع ملتا ہے۔ کل 70 باہمی مقابلوں میں بھی برتری میڈرڈ کی ہے: 45 فتوحات، 11 ڈرا، 14 شکستیں، مجموعی گول 58-144۔ تاہم پچھلے سیزن میں توازن دکھا—برنابیو میں 0-1 میڈرڈ اور سان مامیس میں 1-2 بلباؤ۔ بلباؤ کی پریسنگ اور تیز منتقلی بڑے حریفوں کو الجھاتی ہے؛ سوال یہ ہے کہ کیا وہ برنابیو کے آخری دھکے کو سہہ پائیں گے۔ فیصلہ کن لمحے 76 سے 90 منٹ ہیں۔ میڈرڈ اپنے 25% گول اسی وقفے میں کرتا ہے جبکہ بلباؤ 33%۔ یہی وہ وقت ہے جب میڈرڈ کی بینچ، سیٹ پیس اور رفتار میں تبدیلی اثر دکھاتے ہیں، مگر بلباؤ کے کاؤنٹر اور سیکنڈ بال پریشر بھی خطرناک ثابت ہوتے ہیں۔ تازہ ونگرز اور عمودی دوڑیں آخری پندرہ منٹ کا نقشہ بدل سکتی ہیں۔ حکمتِ عملی کے لحاظ سے، میڈرڈ قبضہ اور طویل ڈایاگونلز سے بلباؤ کے کمپیکٹ بلاک کو ہلا کر ہاف اسپیسز میں تیزی سے گھسنے کی کوشش کرے گا۔ بلباؤ کی راہ مڈفیلڈ میں ڈوئلز جیتنے، ہاف اسپیسز کی حفاظت اور ٹرن اوورز پر براہِ راست وار کرنے میں ہے۔ سیٹ پیس فیصلہ کن ہو سکتے ہیں—درستگی اور ہم آہنگی نتائج پلٹ دیتی ہے۔ میڈرڈ کیلئے پہلا گول لہجہ طے کرتا ہے؛ برتری ملتے ہی وہ رفتار اور جگہوں پر قابو رکھتے ہیں۔ بلباؤ کیلئے رفتار کم رکھنا اور میچ کو ایک گول کے فرق کے ساتھ آخری حصے تک لے جانا امکانات بڑھاتا ہے۔ تاریخ میڈرڈ کے حق میں ہے، رجحان آخری ڈرامے کا۔ 3-1 کا مانوس اسکور خاکہ دیتا ہے، مگر اگر میچ آخری لمحات تک زندہ رہا تو روایتیں بھی ٹوٹ سکتی ہیں۔